المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ عمل الآخرة عَلَى عمل الدنيا باب: دنیا کے کام کے مقابلے میں آخرت کے عمل کو مقدم رکھنے اور اسے ترجیح دینے کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَرَامًا مُكَاثِرًا مُفَاخِرًا مُرَائِيًا ، لَقِيَ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، وَمَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا اسْتِعْفَافًا عَنِ الْمَسْأَلَةِ وَسَعْيًا عَلَى أَهْلِهِ ، وَتَعَطُّفًا عَلَى جَارِهِ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَوَجْهُهُ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " .
3284 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ ابْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ فُرَافِصَةَ ، مِثْلَهُ ..
هَذَا مُنْقَطِعٌ بَيْنَ مَكْحُولٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے حرام طریقے سے دنیا اس نیت سے طلب کی کہ مال و دولت کی کثرت کرے، فخر و مباہات کرے اور دکھاوا کرے، وہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت غضبناک ہوگا، اور جس نے حلال طریقے سے دنیا اس غرض سے طلب کی کہ وہ لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے بچ سکے، اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے تگ و دو کر سکے اور اپنے پڑوسی کے ساتھ ہمدردی و حسنِ سلوک کر سکے، وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی مانند روشن ہوگا“۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی اس کے مثل روایت بیان کی ہے، یہ روایت مکحول اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے۔