المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ عمل الآخرة عَلَى عمل الدنيا باب: دنیا کے کام کے مقابلے میں آخرت کے عمل کو مقدم رکھنے اور اسے ترجیح دینے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا ذِئْبَانِ ضَارِيَانِ جَائِعَانِ فِي غَنَمٍ ، افْتَرَقَتْ أَحَدُهُمَا فِي أَوَّلِهَا ، وَالْآخَرُ فِي آخِرِهَا ، بِأَسْرَعَ فَسَادًا مِنِ امْرِئٍ يُحِبُّ شَرَفَ الدُّنْيَا وَمَالَهَا فِي دِينِهِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دو خونخوار اور بھوکے بھیڑیے جنہیں بکریوں کے کسی ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے، اور ان میں سے ایک ریوڑ کے اگلے حصے میں اور دوسرا پچھلے حصے میں (درندگی کے لیے) گھس جائے، وہ اس ریوڑ کو اتنی تیزی سے تباہ و برباد نہیں کرتے جتنا دنیاوی جاہ و منصب اور مال و دولت کی حرص کسی انسان کے دین کو تیزی سے غارت کر دیتی ہے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبد اللہ بن محمد بن عقیل اگرچہ کلام سے خالی نہیں لیکن اس کے شواہد جامع ترمذی اور مسند احمد میں موجود ہیں جس کی بنا پر اس روایت کو تقویت حاصل ہے۔