المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ عمل الآخرة عَلَى عمل الدنيا باب: دنیا کے کام کے مقابلے میں آخرت کے عمل کو مقدم رکھنے اور اسے ترجیح دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو الْفَضْلِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، ثَنَا الْجُنَيْدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ أَبِي وَهْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَفَرَّغُوا مِنْ هُمُومِ الدُّنْيَا مَا اسْتَطَعْتُمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّهِ ; أَفْشَى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَمَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ أَكْبَرَ هَمِّهِ ; جَمَعَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ أُمُورَهُ ، وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ ، وَمَا أَقْبَلَ عَبْدٌ بِقَلْبِهِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا جَعَلَ قُلُوبَ الْمُؤْمِنِينَ تُقَادُ إِلَيْهِ بِالْوُدِّ وَالرَّحْمَةِ ، وَكَانَ اللهُ تَعَالَى إِلَيْهِ بِكُلِّ خَيْرٍ أَسْرَعَ " .سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی استطاعت کے مطابق دنیا کے فکروں سے خود کو فارغ کر لیا کرو، کیونکہ جس شخص کا سب سے بڑا غم اور مقصدِ حیات دنیا ہی بن جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو منتشر اور بکھیر دیتا ہے اور اس کی محتاجی و فقر کو اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے، اور جس کا سب سے بڑا مقصد آخرت ہو تو اللہ عزوجل اس کے بکھرے ہوئے امور کو یکجا (اور سلجھا) دیتا ہے اور اس کے دل میں غنا اور بے نیازی پیدا فرما دیتا ہے۔ اور جو بندہ بھی اپنے پورے دل کے ساتھ اللہ عزوجل کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے دلوں کو اس کی طرف محبت اور رحمت کے ساتھ مائل کر دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کی طرف ہر قسم کی خیر و بھلائی پہنچانے میں سب سے زیادہ جلدی فرماتا ہے۔“
اس حدیث کو امام طبرانی نے ’المعجم الکبیر‘ (حدیث: 611) اور امام بیہقی نے ’شعب الایمان‘ (حدیث: 3280) میں روایت کیا ہے، مگر اس کی سند میں محمد بن سعید المصلوب نامی راوی کذاب اور وضاع (حدیثیں گھڑنے والا) ہے، اس لیے علمی وتحقیقی طور پر یہ سند موضوع (من گھڑت) ہے، البتہ اس کے ابتدائی جملوں کے شواہد دیگر صحیح احادیث (مثلاً سنن ترمذی: 2465) میں موجود ہیں۔