❮
❯
حدیث نمبر: 3281
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، أَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الْآخِرَةِ ; جَمَعَ اللهُ تَعَالَى لَهُ شَمْلَهُ ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ ، وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الدُّنْيَا ; جَعَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْفَقْرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَشَتَّتَ عَلَيْهِ أَمْرَهُ ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنْهَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ " .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کی نیت کا محور آخرت کی طلب ہو، اللہ تعالیٰ اس کی پریشان حالی کو جمعیت میں بدل دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل و خوار ہو کر (خود ہی) چلی آتی ہے، اور جس شخص کی نیت محض دنیا کی طلب ہو، اللہ عزوجل مفلسی اور فقر کو اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور اس کے معاملات کو منتشر و پراگندہ کر دیتا ہے، جبکہ اسے دنیا میں سے صرف وہی کچھ حاصل ہوتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔“
اس حدیث کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہے، تاہم اس کے شواہد سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں موجود ہونے کی وجہ سے یہ روایت اپنے مفہوم میں معتبر اور صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 3281
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد ضعيف، فيه الرَّبيع بن صَبيح، وشيخه يزيد، وهما ضعيفان. »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 2465، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5987، 8877»