المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ عمل الآخرة عَلَى عمل الدنيا باب: دنیا کے کام کے مقابلے میں آخرت کے عمل کو مقدم رکھنے اور اسے ترجیح دینے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، أَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الْآخِرَةِ ; جَمَعَ اللهُ تَعَالَى لَهُ شَمْلَهُ ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ ، وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الدُّنْيَا ; جَعَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْفَقْرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَشَتَّتَ عَلَيْهِ أَمْرَهُ ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنْهَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کی نیت کا محور آخرت کی طلب ہو، اللہ تعالیٰ اس کی پریشان حالی کو جمعیت میں بدل دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل و خوار ہو کر (خود ہی) چلی آتی ہے، اور جس شخص کی نیت محض دنیا کی طلب ہو، اللہ عزوجل مفلسی اور فقر کو اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور اس کے معاملات کو منتشر و پراگندہ کر دیتا ہے، جبکہ اسے دنیا میں سے صرف وہی کچھ حاصل ہوتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔“
اس حدیث کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہے، تاہم اس کے شواہد سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں موجود ہونے کی وجہ سے یہ روایت اپنے مفہوم میں معتبر اور صحیح ہے۔