❮
❯
حدیث نمبر: 3279
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الزِّمَّانِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ هُوَ الثَّقَفِيُّ ، ثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، فَمَنِ اتَّقَى فِيهَا وَأَصْلَحَ فِي ذَلِكَ ، وَإِلَّا فَهُوَ كَالْآكِلِ وَلَا يَشْبَعُ ، فَبُعْدُ النَّاسِ كَبُعْدِ الْكَوْكَبَيْنِ يَطْلُعُ أَحَدُهُمَا مِنَ الْمَشْرِقِ ، وَالْآخَرُ يَغِيبُ مِنَ الْمَغْرِبِ " .
ترجمہ

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دنیا سرسبز و شاداب اور نہایت دلکش و شیریں ہے؛ چنانچہ جس شخص نے اس میں اللہ کا تقویٰ اختیار کیا اور اپنے معاملات کی اصلاح کی (وہ بامراد ہوا)، وگرنہ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کھاتا تو ہے مگر کبھی سیر نہیں ہوتا، اور (مراتب و درجات میں) لوگوں کے درمیان دوری دو ایسے ستاروں کے درمیانی فاصلے کی طرح ہو گی کہ جن میں سے ایک مشرق سے طلوع ہو رہا ہو اور دوسرا مغرب میں غروب ہو رہا ہو۔“
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مثنیٰ بن الصباح نامی راوی ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 3279
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد ضعيف؛ لوجود المثنى بن الصَباح، وهو ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 17811، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7283»