المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ عمل الآخرة عَلَى عمل الدنيا باب: دنیا کے کام کے مقابلے میں آخرت کے عمل کو مقدم رکھنے اور اسے ترجیح دینے کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا أُبَشِّرُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْفُقَرَاءِ ، إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ ، خَمْسِمِائَةِ عَامٍ .
3278 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، بِهِ ، وَزَادَ : وَتَلَا مُوسَى : وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ .
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے فقراء اور ناداروں کی جماعت! کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سناؤں؟ بلاشبہ اہل ایمان میں سے جو غریب لوگ ہیں، وہ اپنے طبقے کے مالداروں سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے، اور وہ آدھا دن پانچ سو سال کے برابر ہے۔“
اور امام بزار رحمہ اللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ راویِ حدیث موسیٰ بن عبیدہ نے اس موقع پر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ﴾ [سورة الحج: 47] ”اور یقیناً آپ کے پروردگار کے ہاں ایک دن تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے“۔
امام بزار فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ مروی ہے۔