المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ عمل الآخرة عَلَى عمل الدنيا باب: دنیا کے کام کے مقابلے میں آخرت کے عمل کو مقدم رکھنے اور اسے ترجیح دینے کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللهَ تَعَالَى إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا ، كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ " .
3277 \ 2 - خَالَفَهُ ابْنُ لَهِيعَةَ ، فَرَوَاهُ عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مَحْمُودٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْهُ .
3277 \ 3 - وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، فَجَعَلَ الصَّحَابِيَّ : قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
3277 \ 4 - وَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلَهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، فَلَمْ يَذْكُرْ فَوْقَ مَحْمُودٍ أَحَدًا .
وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے دنیا (کی آلائشوں اور فتنوں) سے اس طرح محفوظ فرما دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے بیمار کو (ضرر کے اندیشے سے) پانی سے بچائے رکھتا ہے۔“
ابن لہیعہ نے اس روایت میں سنداً مخالفت کی ہے اور اسے عمارہ، عاصم اور محمود کے واسطے سے سیدنا عقبہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے اسے کامل بن طلحہ کے واسطے سے انہی (عمارہ) سے نقل کیا ہے۔
امام ترمذی نے اسے اسماعیل بن جعفر کے واسطے سے عمارہ سے روایت کیا ہے، جس میں انہوں نے صحابی کا نام سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ قرار دیا ہے۔
بعض رواۃ نے اسے اسماعیل سے مرسل نقل کیا ہے اور محمود بن لبید کے اوپر کسی (صحابی) کا ذکر نہیں کیا۔
اسی طرح بشر بن مفضل نے بھی عمارہ بن غزیہ رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔