المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ عمل الآخرة عَلَى عمل الدنيا باب: دنیا کے کام کے مقابلے میں آخرت کے عمل کو مقدم رکھنے اور اسے ترجیح دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3276
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَسَنٌ إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ " .ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "ہر معاملے میں وقار، بردباری اور ٹھہراؤ اختیار کرنا ایک مستحسن اور پسندیدہ عمل ہے، سوائے آخرت کے (نیک) کاموں کے (کہ ان میں تامل اور تاخیر کرنے کے بجائے جلدی کرنی چاہیے)۔"
اس روایت کو امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔