المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ عمل الآخرة عَلَى عمل الدنيا باب: دنیا کے کام کے مقابلے میں آخرت کے عمل کو مقدم رکھنے اور اسے ترجیح دینے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ : وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَكْبٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّ بِهِمْ رَجُلٌ فَسَأَلَهُمْ فَأَجَابُوهُ ، ثُمَّ انْتَهَى إِلَىمُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى رَحْلِهِ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ ، فَقَالَ : عَمَّ سَأَلْتَهُمْ ؟ فَقَالَ : سَأَلْتُهُمْ عَنْ كَذَا ، فَقَالُوا كَذَا ، وَسَأَلْتُهُمْ عَنْ كَذَا ، فَقَالُوا كَذَا ، فَقَالَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كَلِمَتَانِ إِنْ أَنْتَ أَخَذْتَ بِهِمَا أَخَذْتَ بِصَالِحِ مَا قَالُوا ، وَإِنْ أَنْتَ تَرَكْتَهُمَا تَرَكْتَ صَالِحَ مَا قَالُوا ، إِنْ أَنْتَ ابْتَدَأْتَ بِنَصِيبِكَ مِنَ الدُّنْيَا يَفُتْكَ نَصِيبُكَ مِنَ الْآخِرَةِ ، وَعَسَى أَنْ لَا تُدْرِكَ بَيْنَهُمَا الَّذِي تُرِيدُ ، وَإِنِ ابْتَدَأْتَ نَصِيبَكَ مِنَ الْآخِرَةِ يَمُرُّ بِكَ عَلَى نَصِيبِكَ مِنَ الدُّنْيَا فَيَنْتَظِمُ لَكَ انْتِظَامًا ، ثُمَّ يَدُورُ مَعَكَ حَيْثُمَا تَدُورُ .میمون بن ابی شبیب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کے ایک گروہ میں موجود تھے، وہاں سے ایک شخص گزرا اور اس نے ان حضرات سے کچھ سوالات کیے جن کے انہوں نے جوابات دیے۔ پھر وہ شخص سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا جو اس وقت اپنے کجاوے پر سر رکھے ہوئے اپنے آپ سے محوِ کلام (غور و فکر) تھے، انہوں نے دریافت فرمایا: ”تم نے ان سے کن چیزوں کے بارے میں سوال کیا تھا؟“ اس نے عرض کیا کہ میں نے ان سے فلاں فلاں بات پوچھی تھی اور انہوں نے یہ یہ جوابات دیے۔ اس پر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دو باتیں ایسی ہیں کہ اگر تم نے انہیں اپنا لیا تو گویا تم نے ان کی تمام بہترین باتوں کا نچوڑ حاصل کر لیا، اور اگر تم نے انہیں چھوڑ دیا تو ان کی کہی ہوئی تمام بھلائی کو کھو دیا۔ وہ یہ ہیں: اگر تم نے (اپنی ترجیحات اور تگ و دو کا) آغاز دنیا کے حصے سے کیا تو تمہارا آخرت کا حصہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا، اور قریب ہے کہ اس جدوجہد میں تم اپنی وہ مطلوبہ دنیا بھی حاصل نہ کر سکو جس کا ارادہ رکھتے ہو۔ لیکن اگر تم نے اپنے آخرت کے حصے سے آغاز کیا تو وہ تمہارے دنیاوی نصیب کو بھی اپنے ساتھ سمیٹ لے گا اور تمہارے تمام معاملات کو بہترین طریقے سے منظم کر دے گا، پھر دنیا تمہارے پیچھے وہیں پھرے گی جہاں تم جاؤ گے۔“
تخریج: یہ روایت مسند اسحاق بن راہویہ (3275) میں مذکور ہے۔