المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ كَرَاهَةِ البناء فوق الحاجة باب: ضرورت سے زائد عمارت تعمیر کرنے کی کراہت کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَانِبٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَأَبْصَرَ قُبَّةً مَبْنِيَّةً فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَنَسُ ، لِمَنْ هَذِهِ الْقُبَّةُ ؟ " فَقُلْتُ : لِفُلَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ بِنَاءٍ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا بِنَاءَ كَفَافٍ " . فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَسَّرَهَا ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَلَمْ يَرَهَا فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَنَسُ ، مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ ؟ " قُلْتُ : بَلَغَ صَاحِبَهَا قَوْلُكَ ; فَكَسَّرَهَا . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَفَرَ اللهُ لَهُ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ انصار کے گھروں کے ایک پہلو میں موجود تھا کہ آپ ﷺ نے اپنا سرِ مبارک اٹھایا تو ایک تعمیر شدہ قبہ (گنبد نما اونچی عمارت) ملاحظہ فرمائی، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے انس! یہ قبہ کس کا ہے؟“ میں نے عرض کی: یہ فلاں شخص کا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن ہر عمارت اپنے صاحب کے لیے وبالِ جان ہو گی، سوائے اس تعمیر کے جو بقدرِ ضرورت اور ناگزیر ہو۔“ چنانچہ جب اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے گرا کر مسمار کر دیا، پھر جب نبی کریم ﷺ کا وہاں سے دوبارہ گزر ہوا اور آپ ﷺ نے اسے وہاں نہ پایا تو دریافت فرمایا: ”اے انس! اس قبہ کا کیا ہوا؟“ میں نے عرض کی: اس کے مالک کو آپ کا فرمانِ مبارک پہنچا تو انہوں نے اسے مسمار کر دیا، تب آپ ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: «غَفَرَ اللهُ لَهُ» ”اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔“
اس حدیث کو امام ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے، اگرچہ اس کی سند میں محمد بن ابی زکریا پر کلام کیا گیا ہے، لیکن دیگر احادیثِ مبارکہ سے اس کے معنی و مفہوم کی تائید ہوتی ہے کہ محض فخر و مباہات کے لیے کی جانے والی تعمیرات ناپسندیدہ ہیں۔