المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ التنطع باب: تکلف، غلو اور بال کی کھال نکالنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3267
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِهَذَا الْقُرْآنِ شِرَّةً ، ثُمَّ لِلنَّاسِ عَنْهُ فَتْرَةٌ ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْقَصْدِ فَنِعْمَ مَا هُوَ ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْإِعْرَاضِ فَأُولَئِكَ بُورٌ " .
3267 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، بِهَذَا .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اس قرآن (کی تعلیم و تلاوت) کے لیے ایک خاص جوش اور ولولہ ہوتا ہے، پھر لوگوں پر اس حوالے سے سستی اور اکتاہٹ کا ایک دور آتا ہے، پس جس شخص کی سستی و کاہلی (اعتدال کی حد میں رہے اور اس کا رخ) میانہ روی کی طرف ہو تو وہ کیا ہی خوب ہے، اور جس کی سستی اسے (حق سے) اعراض اور روگردانی کی طرف لے جائے تو ایسے لوگ ہی ہلاک اور برباد ہونے والے ہیں۔“
امام ابوبکر اور امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی اپنی اسناد کے ساتھ ابو معشر سے، انہوں نے سعید سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔