❮
❯
حدیث نمبر: 3266
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى قَالَا : ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُقْرِئُ بَعْضُنَا بَعْضًا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَمْدُ لِلهِ كِتَابُ اللهِ وَاحِدٌ ، فِيكُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَسْوَدُ ، اقْرَؤُوا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ قَوْمٌ يُقِيمُونَ حُرُوفَهُ كَمَا يُقَامُ السَّهْمُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ " .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم ایک دوسرے کو قرآن پڑھا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” «الْحَمْدُ لِلهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“، اللہ کی کتاب ایک ہی ہے، جبکہ تم میں سرخ و سیاہ (ہر رنگ و نسل کے) لوگ موجود ہیں۔ تم قرآن پڑھو“ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر فرمایا: ”اس سے قبل کہ ایسی قوم آئے جو اس کے حروف کو اس طرح (بظاہر) سیدھا اور درست کرے گی جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، وہ اس (کے دنیاوی ثمرات) میں جلدی کریں گے اور اسے (آخرت کے اجر کے لیے) مؤخر نہیں کریں گے۔“
یہ اسناد ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3266
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ . »
«أخرجه سنن أبي داود برقم: 831، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6021، 6022، 6024، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 760، 6725، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 273/1»