المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ التنطع باب: تکلف، غلو اور بال کی کھال نکالنے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ مِسْعَرٌ قَالَ : أَخْرَجَ إِلَيَّ مَعْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كِتَابًا فَحَلَفَ لِي أَنَّهُ خَطُّ أَبِيهِ ، فَإِذَا فِيهِ : قَالَ عَبْدُ اللهِ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ خَوْفًا عَلَى الْمُتَنَطِّعِينَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَشَدَّ خَوْفًا مِنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَإِنِّي لَأَرَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ أَشَدَّ خَوْفًا عَلَيْهِمْ أَوْ لَهُمْ . ؟
فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ ، وَقَالَ : نَعَمْ .
3265 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهِ .
3265 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، بِهِ .اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا: کیا آپ کو مسعر نے یہ حدیث بیان کی ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ معن بن عبدالرحمن نے مجھے ایک تحریر دکھائی اور حلف اٹھا کر کہا کہ یہ ان کے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے، اس میں مرقوم تھا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ» ”اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں! میں نے کسی کو غلو کرنے والوں اور بال کی کھال اتارنے والوں (المتنطعين) کے انجام پر رسول اللہ ﷺ سے زیادہ فکرمند اور خائف نہیں دیکھا، اور رسول اللہ ﷺ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ان کے متعلق کوئی ڈرنے والا نہ تھا، اور میرا گمان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے حق میں یا ان کے فتنے سے سب سے زیادہ خوف زدہ تھے۔“
اس پر ابواسامہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا: جی ہاں! نیز امام ابوبکر اور امام ابویعلیٰ نے بھی اسے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ ابواسامہ سے روایت کیا ہے۔