المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْبُكَاءِ مِنْ خشية اللَّهُ تَعَالَى باب: اللہ تعالیٰ کی خشیت اور اس کے خوف سے رونے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3251
وَقَالَ أَحْمَدُ فِي الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، ثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يُبْكِيكَ ؟ " فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ : وَاللهِ مَا جَفَّتْ لِي عَيْنٌ مُنْذُ خَلَقَ اللهُ تَعَالَى النَّارَ ; مَخَافَةَ أَنْ أَعْصِيَهُ فَيَقْذِفَنِي فِيهَا " .ترجمہ
ابوعمران جونی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے جبکہ وہ (شدتِ خوف سے) گریہ و زاری کر رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”آپ کو کس بات نے رلایا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! جب سے اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے، میری آنکھیں (خوف کی وجہ سے) کبھی خشک نہیں ہوئیں، اس ڈر سے کہ کہیں میں اس کی نافرمانی نہ کر بیٹھوں اور وہ مجھے اس میں نہ جھونک دے۔“
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اسے کتاب "الزہد" (3251) میں روایت کیا ہے۔