المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْبُكَاءِ مِنْ خشية اللَّهُ تَعَالَى باب: اللہ تعالیٰ کی خشیت اور اس کے خوف سے رونے کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، ثَنَا أَبِي هُوَ ابْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبْكِي عَبْدٌ فَتَقْطُرُ عَيْنَاهُ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ تَعَالَى فَيُدْخِلُهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ النَّارَ أَبَدًا ، حَتَّى يَعُودَ قَطْرُ السَّمَاءِ " . وَيُقَالُ : إِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ حِينَ رَجَعَ النَّاسُ مِنْ مُؤْتَةَ وَفِي يَدِهِ قِطْعَةٌ مِنْ خُبْزٍ ، فَلَمَّا ذَكَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهُمْ فَاضَتْ عَيْنَاهُ فَمَسَحَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ وَقَالَ : " أَلَا إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، إِنَّ الْمَرْءَ يَرَى أَنَّهُ كَثِيرٌ بِأَخِيهِ ، مَنْ لَهُ عِنْدِي عِدَةٌ ؟ " . فَقَالَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَأَعْطَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا ، قَالَ : وَقَالَتْ بَرَكَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : لَمَّا حَضَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ وَهِيَ تَمُوتُ وَهِيَ تَحْتَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَاضَتْ عَيْنَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَكَتْ بَرَكَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَنَتَفَتْ رَأْسَهَا ، فَزَجَرَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : أَتَبْكِي يَا رَسُولَ اللهِ وَنَحْنُ سُكُوتٌ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الَّذِي رَأَيْتِ مِنِّي رَحْمَةٌ لَهَا ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ بِكُلِّ مَنْزِلَةٍ صَالِحَةٍ مِنَ اللهِ تَعَالَى عَلَى عُسْرٍ أَوْ يُسْرٍ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے اس طرح روئے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں اور پھر اللہ عزوجل اسے کبھی بھی جہنم کی آگ میں داخل کرے، (یہ امر محال ہے) یہاں تک کہ آسمان سے برسا ہوا قطرہ واپس (بادلوں میں) لوٹ جائے“۔ اور مروی ہے کہ جب لوگ غزوۂ موتہ سے واپس آئے تو نبی کریم ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے جبکہ آپ ﷺ کے دستِ مبارک میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا، پھر جب آپ ﷺ نے ان (صحابہ) کے احوال کا تذکرہ فرمایا تو آپ ﷺ کی چشمانِ مبارک اشکبار ہو گئیں، پس آپ ﷺ نے اپنا چہرہ مبارک پونچھا اور فرمایا: ”آگاہ رہو! میں تو بس ایک انسان ہوں، «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“، بے شک آدمی اپنے بھائی (کی رفاقت اور تعاون) سے خود کو بہت زیادہ (طاقتور) محسوس کرتا ہے، (تم میں سے) کس کا میرے ذمے کوئی وعدہ ہے؟“ اس پر سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے وہ ٹکڑا انہیں عطا فرما دیا۔ سیدہ برکہ (ام ایمن) رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ اپنی صاحبزادی کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ حالتِ نزع میں تھیں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، تو آپ ﷺ کی آنکھیں چھلک پڑیں، جس پر سیدہ برکہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں اور (شدتِ غم سے) اپنے بال نوچنے لگیں، آپ ﷺ نے انہیں اس عمل سے سختی سے جھڑکا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھی رو رہے ہیں جبکہ ہمیں خاموش رہنے (کا حکم) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ (رونا) جو تم نے مجھ سے دیکھا ہے یہ تو (بچی کے لیے) رحمت ہے، اور میں تو بس ایک انسان ہوں، یقیناً مومن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر حال میں بھلائی ہی کے مقام پر ہوتا ہے، خواہ وہ تنگی کی حالت ہو یا آسانی کی“۔
اس روایت کا پہلا حصہ سنن ترمذی اور نسائی میں بھی موجود ہے، جس کی اسناد کو ائمہ نے حسن اور صحیح قرار دیا ہے، جبکہ بقیہ حصہ دیگر تاریخی و حدیثی شواہد کے ساتھ کتبِ سیرت و سنن میں مروی ہے۔