المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ سكنى المقابر باب: قبرستان میں رہنے کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قِيلَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا لَكَ تَرَكْتَ مُجَاوَرَةَ قَبْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاوَرْتَ الْمَقَابِرَ يَعْنِي الْبَقِيعَ ؟ فَقَالَ : وَجَدْتُهُمْ جِيرَانَ صِدْقٍ ، يُكَفِّرُونَ السَّيِّئَةَ وَيُذَكِّرُونَ الْآخِرَةَ ؟
فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ : نَعَمْ .عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب اپنے والد (محمد بن عمر) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: ”آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے مزارِ اقدس کی مجاورت (قربت) ترک کر دی اور عام قبرستان یعنی بقیع کے گرد و نواح میں رہائش اختیار کر لی؟“ تو انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا: ”میں نے ان اہل قبور کو نہایت سچے اور کھرے پڑوسی پایا ہے، وہ برائیوں سے باز رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور آخرت کی یاد دلاتے ہیں۔“
اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ روایت امام ابو اسامہ کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا: ”جی ہاں، یہ بالکل درست ہے۔“