المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ خير الجلساء باب: بہترین ہم نشینوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3246
قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا مُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَيُّ جُلَسَائِنَا خَيْرٌ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذَكَّرَكُمْ بِاللهِ رُؤْيَتُهُ ، وَزَادَ فِي عِلْمِكُمْ مَنْطِقُهُ ، وَذَكَّرَكُمْ بِالْآخِرَةِ عَمَلُهُ " .
3246 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ حَسَّانَ ، بِهِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے ہم نشینوں میں سے کون سا شخص بہتر ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جس کی زیارت تمہیں اللہ کی یاد دلائے، جس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافے کا باعث بنے، اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اس روایت کو اپنی سند کے ساتھ مبارک بن حسان کے واسطے سے نقل کیا ہے۔