المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الكبر باب: تکبر کی مذمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3229
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ( ح ) .
3229 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ بِالْخُلُقِ الْحَسَنِ ، وَإِنَّهُ لَيُكْتَبُ جَبَّارًا وَمَا يَمْلِكُ إِلَّا أَهْلَ بَيْتِهِ " .ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک آدمی اپنے حسنِ اخلاق کی بدولت (دن کو) روزہ رکھنے والے اور (رات کو عبادت کے لیے) قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اور یقیناً ایک شخص کو جبار (سخت گیر و سرکش) لکھ دیا جاتا ہے حالانکہ وہ اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور پر اختیار و اقتدار نہیں رکھتا ہوتا۔“
یہ روایت مسند احمد بن منیع اور مسند الحارث میں منقول ہے، اس کی سند میں عبد العزیز بن عبید اللہ ضعیف ہے اور اسماعیل بن عیاش کی اہل حجاز کے علاوہ دیگر سے روایت میں کلام ہونے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔