المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الكبر باب: تکبر کی مذمت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ : إِنَّ أَصْحَابَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَصَهُمُ الْبَرْدُ ، فَجَعَلُوا يَسْتَحْيُونَ أَنْ يَجِيئُوا فِي الْفَسَاسِيرِ وَالْعَبِيِّ ، فَفَقَدَهُمْ ، فَقِيلَ لَهُ : أَمْرُهُمْ كَذَا وَكَذَا ، فَأَصْبَحَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي عَبَاءَةٍ ، فَقَالُوا : أَصْبَحَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي عَبَاءَةٍ ، ثُمَّ جَاءَ الْيَوْمُ الثَّانِي ثُمَّ جَاءَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ ، فَلَمَّا رَأَوْهُ فِي الْعَبَاءَةِ جَاؤُوا فِي أَكْسِيَتِهِمْ ، فَعَرَفَ وُجُوهًا قَدْ كَانَ فَقَدَهَا ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ ، أَوْ قَالَ : ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ .ابو مجلز سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کو جب سخت سردی نے آ گھیرا تو وہ موٹی اونی چادروں اور کمبلوں میں ملبوس ہو کر (مجلس میں) آنے سے شرمانے لگے۔ چنانچہ جب آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں غیر حاضر پایا اور آپ کو ان کی اس صورتحال کی خبر دی گئی تو سیدنا ابو عبدالرحمن (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) خود ایک سادہ سی عبا اوڑھ کر تشریف لائے۔ لوگوں نے یہ دیکھ کر تذکرہ شروع کر دیا کہ آج سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ عبا پہن کر آئے ہیں۔ پھر آپ دوسرے اور تیسرے دن بھی اسی طرح تشریف لائے، تو جب شاگردوں نے آپ کو عبا میں دیکھا تو وہ بھی اپنی اپنی چادریں اوڑھ کر حاضر ہو گئے۔ تب آپ نے ان چہروں کو پہچان لیا جو پہلے غائب رہا کرتے تھے، اور فرمایا: ”بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ» ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو“، یا آپ ﷺ نے فرمایا: ”ذرہ برابر بھی تکبر ہو۔““
مسند ابی یعلیٰ، رقم الحدیث: 3230۔