المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الكبر باب: تکبر کی مذمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ ، أَنَا الْأَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا بِلَالُ ، إِنَّ أَبَاكَ حَدَّثَنِي ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي جَهَنَّمَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ هَبْهَبٌ ، حَقًّا عَلَى اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُسْكِنَهُ كُلَّ جَبَّارٍ ، فَإِيَّاكَ يَا بِلَالُ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَسْكُنُهُ " .محمد بن واسع بیان کرتے ہیں کہ میں بلال بن ابی بردہ کے پاس گیا اور ان سے کہا: اے بلال! تمہارے والد نے اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کے واسطے سے مجھے حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً جہنم میں ایک وادی ہے جسے ہبہب کہا جاتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ حق لازم کر لیا ہے کہ وہ ہر سرکش و جابر شخص کو اس میں ٹھکانا دے، لہٰذا اے بلال! تم اس بات سے خوب بچنا کہ کہیں ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ جو اس میں قیام کریں گے۔“
[تخریج: اس روایت کو امام حاکم نے المستدرک اور امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی ازہر بن سنان پر جرح کی وجہ سے محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے]۔