المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الكبر باب: تکبر کی مذمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3227
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ وَمَرَّتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَ لَهَا رَجُلٌ : الطَّرِيقَ ، فَقَالَتِ : الطَّرِيقُ مَهْ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهَا فَإِنَّهَا جَبَّارَةٌ " .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک راستے سے گزر رہے تھے کہ وہیں سے ایک سیاہ فام عورت کا بھی گزر ہوا، تو (راستے میں موجود) ایک شخص نے اسے (راستہ دینے کی طرف متوجہ کرنے کے لیے) کہا: ”راستہ دیجیے!“ اس عورت نے (بے نیازی یا برہمی سے) جواب دیا: ”کیسا راستہ؟“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے اس کے حال پر رہنے دو، کیونکہ یہ ایک نہایت خود سر (اور سخت مزاج) عورت ہے۔“
تخریج: یہ روایت مسند ابی یعلیٰ (3227) میں موجود ہے، اس کی سند میں جعفر بن سلیمان الضبعی صدوق راوی ہیں اگرچہ ان کے حفظ اور تفردات کے حوالے سے ائمہ نے کلام کیا ہے۔