❮
❯
حدیث نمبر: 3226
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سِنَانٍ ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ : زَعَمَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَنْظَلَةَ : أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ ، مَرَّ فِي السُّوقِ عَلَيْهِ حُزْمَةٌ مِنْ حَطَبٍ ، فَقِيلَ لَهُ : أَلَيْسَ قَدْ أَغْنَاكَ اللهُ تَعَالَى عَنْ هَذَا ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَقْمَعَ الْكِبْرَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بازار سے گزرے جبکہ انہوں نے لکڑیوں کا ایک گٹھا اٹھا رکھا تھا، تو ان سے کہا گیا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس (محنت و مشقت) سے غنی اور بے نیاز نہیں کر دیا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”کیوں نہیں، (اللہ کا فضل تو ہے) لیکن میرا ارادہ یہ ہے کہ میں اس کے ذریعے (اپنے نفس سے) تکبر کو کچل دوں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا۔““
اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں اسماعیل بن سنان ضعیف ہے، البتہ حدیث کا آخری حصہ (تکبر کی ممانعت) دیگر صحیح و مستند احادیث سے ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3226
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد ضعيف؛ لجهالة محمَّد بن القاسم. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 424، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 5807، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 14946»