❮
❯
حدیث نمبر: 3225
( 123 ) حَدِيثُ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ تَقَدَّمَ فِي أَبْوَابِ الذِّكْرِ الَّذِي يُذْهِبُ أَبْوَابَ السَّقَمِ فِي أَبْوَابِ الطِّبِّ .
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَوْ قَامَ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ فَسَأَلَهُ دِينَارًا مَا أَعْطَاهُ ، أَوْ دِرْهَمًا مَا أَعْطَاهُ ، أَوْ فِلْسًا مَا أَعْطَاهُ ، وَلَوْ سَأَلَ اللهَ تَعَالَى الدُّنْيَا مَا أَعْطَاهُ ، وَمَا يَمْنَعُهُ إِلَّا مِنْ كَرَامَتِهِ عَلَيْهِ ، وَلَوْ سَأَلَ اللهَ تَعَالَى الْجَنَّةَ لَأَعْطَاهُ ، وَلَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ " .
ترجمہ

سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک میری امت میں کوئی ایسا (خستہ حال) شخص بھی ہوتا ہے کہ اگر وہ تم میں سے کسی کے دروازے پر کھڑا ہو کر ایک دینار کا سوال کرے تو وہ اسے نہ دے، یا ایک درہم مانگے تو وہ اسے نہ دے، یہاں تک کہ اگر وہ ایک حبہ (معمولی سکہ) بھی مانگے تو وہ اسے عطا نہ کرے، اور اگر وہ اللہ تعالیٰ سے پوری دنیا مانگ لے تو اللہ اسے وہ عطا نہ فرمائے، اور اللہ کا اسے دنیا سے محروم رکھنا محض اس کی بارگاہِ الٰہی میں اس کی قدر و منزلت اور بزرگی کی وجہ سے ہے، لیکن اگر وہی شخص اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرے تو اللہ اسے ضرور عطا فرما دے، اور اگر وہ اللہ کے بھروسے پر کسی بات پر قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم کو ضرور پورا فرمائے۔“
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کی حدیث طب کے ابواب میں بیماری دور کرنے والے اذکار کے ذیل میں پہلے گزر چکی ہے، اور امام حارث نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3225
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجال هذا الحديث كلهم ثقات، لكنه ضعيف، لإِرسال سالم بن أبي الجَعْد. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»