المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ بقية التحذير مِنْ الرياء باب: ریاکاری سے ڈرانے اور اس کے انجامِ بد سے خبردار کرنے کے متعلق بقیہ امور کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا هِقْلٌ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى الْإِمَامِ يَقْضِي بِالْقَضَاءِ نَرَاهُ جَوْرًا فَنَقُولُ : وَفَّقَكَ اللهُ تَعَالَى ، وَنَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلِ مِنَّا يُثْنِي عَلَيْهِ . قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَمَّا نَحْنُ مَعَاشِرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا .
3223 \ 2 - رَوَاهُ ( الْبُخَارِيُّ ) مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُخْتَصَرًا .عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: ”اے ابوعبدالرحمن! ہم حکمران کے پاس جاتے ہیں، وہ ایسا فیصلہ صادر کرتا ہے جسے ہم ظلم و زیادتی پر مبنی سمجھتے ہیں، لیکن (اس کے روبرو) ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ «وَفَّقَكَ اللهُ تَعَالَى» ”اللہ تعالیٰ آپ کو توفیقِ خیر عطا فرمائے“، اور ہم اپنے میں سے کسی شخص کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس حکمران کی تعریف و ستائش کر رہا ہوتا ہے۔“ اس پر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رہی ہماری بات، تو ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی جماعت (ایسا نہیں کرتے تھے بلکہ اسے نفاق شمار کرتے تھے)۔“
اس حدیث کو امام بخاری نے محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر کے واسطے سے ان کے دادا (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے مختصراً روایت کیا ہے۔