المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ بقية التحذير مِنْ الرياء باب: ریاکاری سے ڈرانے اور اس کے انجامِ بد سے خبردار کرنے کے متعلق بقیہ امور کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ ، قَالَ : أَتَيْنَا الزُّهْرِيَّ فَأَمَرَ بِنَا فَطُرِدْنَا ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْنَا فَجِئْنَا ، فَحَدَّثَنَا قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَا نَعَايَا الْعَرَبِ ثَلَاثًا إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرِّيَاءُ وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ " .عباد بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تین مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے عربوں کی ہلاکت و بربادی کی خبر دینے والو! (خبردار ہو جاؤ)، بلاشبہ مجھے تمہارے متعلق جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر ہے وہ ریاکاری اور پوشیدہ نفسانی خواہش ہے“؛ (راویِ حدیث) عبداللہ بن بدیل بن ورقاء بیان کرتے ہیں کہ ہم امام زہری کی خدمت میں حاضر ہوئے تو (پہلے) انہوں نے ہمیں وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا جس پر ہمیں ہٹا دیا گیا، پھر انہوں نے ہمیں بلا بھیجا تو ہم حاضر ہوئے اور انہوں نے ہمیں یہ حدیث سنائی۔
اس حدیث کی تخریج امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے۔