المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ بقية التحذير مِنْ الرياء باب: ریاکاری سے ڈرانے اور اس کے انجامِ بد سے خبردار کرنے کے متعلق بقیہ امور کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَدِمَ عَلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ : كَيْفَ أَنْتُمْ وَالضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ : نَحْنُ وَهُوَ إِذَا لَقِينَاهُ قُلْنَا لَهُ مَا يُحِبُّ ، وَإِذَا وَلَّيْنَا عَنْهُ قُلْنَا لَهُ غَيْرَ ذَلِكَ ، قَالَ : ذَلِكَ مَا كُنَّا نَعُدُّ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النِّفَاقِ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا: ”آپ لوگوں کا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کے ساتھ (برتاؤ کا) کیا معاملہ ہے؟“ اس نے بتایا: ”ہمارا ان کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ جب ہم ان کے سامنے ہوتے ہیں تو وہی باتیں کرتے ہیں جو انہیں پسند ہوتی ہیں، لیکن جب ہم ان کے پاس سے ہٹ جاتے ہیں تو اس کے برعکس (ان کے خلاف) باتیں کرتے ہیں“، اس پر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اسی طرزِ عمل کو تو ہم رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں نفاق (منافقت) شمار کیا کرتے تھے“۔
اس روایت کی سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے، البتہ اس کا متن صحیح بخاری کی روایت (حدیث نمبر 7178) سے ثابت ہے جو کہ اسے تقویت فراہم کرتی ہے۔