المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ بقية التحذير مِنْ الرياء باب: ریاکاری سے ڈرانے اور اس کے انجامِ بد سے خبردار کرنے کے متعلق بقیہ امور کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ فِي الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، عَنْ رَجُلٍ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا سَعِيدًا الْأَزْرَقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ قَالَ : رَأَى أُوَيْسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا يُصَلِّي يَقُومُ وَيَقْعُدُ ، فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ قَالَ : أَقُومُ فَيَجِيءُ الشَّيْطَانُ ، فَيَقُولُ : إِنَّكَ تُرَائِي ، فَأَجْلِسُ ، ثُمَّ تُنَازِعُنِي نَفْسِي إِلَى الصَّلَاةِ فَأَقُومُ ، ثُمَّ يَقُولُ : إِنَّكَ تُرَائِي ، فَأَجْلِسُ . قَالَ : لَوْ خَلَوْتَ كُنْتَ تُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : صَلِّ ، فَلَسْتَ بِمُرَاءٍ .محمد بن واسع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اویس قرنی رحمہ اللہ نے ایک شخص کو دیکھا جو نماز پڑھنے کے دوران (مضطرب ہو کر) کبھی کھڑا ہوتا اور کبھی بیٹھ جاتا تھا، تو آپ نے اس سے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا معاملہ درپیش ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو شیطان آ کر وسوسہ ڈالتا ہے کہ تم ریاکاری کر رہے ہو، جس پر میں (ڈر کر) بیٹھ جاتا ہوں، پھر میرا نفس مجھے دوبارہ نماز کی طرف راغب کرتا ہے تو میں کھڑا ہو جاتا ہوں، مگر وہ پھر آ کر کہتا ہے کہ تم دکھاوا کر رہے ہو، چنانچہ میں پھر بیٹھ جاتا ہوں۔“ آپ نے اس سے پوچھا: ”اگر تم خلوت و تنہائی میں ہوتے تو کیا تب بھی ایسی ہی نماز پڑھتے؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ آپ نے فرمایا: ”تو پھر تم اپنی نماز مکمل کرو، کیونکہ تم ہرگز ریاکار نہیں ہو۔“
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اسے کتاب الزہد میں روایت کیا ہے۔