❮
❯
حدیث نمبر: 3219
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جَاءَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، اجْعَلْنِي عَلَى شَيْءٍ أَعِيشُ بِهِ . فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا حَمْزَةُ ، أَنَفْسٌ تُحْيِيهَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ نَفْسٌ تُمِيتُهَا ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : نَفْسٌ أُحْيِيهَا . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ نَفْسَكَ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسی خدمت یا عہدے پر فائز فرما دیجیے جس کے ذریعے میں اپنی معیشت اور زندگی کا انتظام کر سکوں۔“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے حمزہ! کیا آپ کو وہ جان زیادہ محبوب ہے جسے آپ زندگی (اور تحفظ) فراہم کریں یا وہ جان جسے آپ موت کے گھاٹ اتار دیں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ایسی جان جسے میں زندگی فراہم کروں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر آپ اپنی ہی جان کی (حفاظت اور اصلاح کو) لازم پکڑ لیں۔“
مسند ابی یعلی: 3234، اس روایت کی سند میں ابن لہیعہ راوی کے حافظے کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے، تاہم حدیث کا مفہوم عہدہ و منصب کی سنگین ذمہ داریوں سے بچنے اور اپنی ذات کی اصلاح و سلامتی پر توجہ مرکوز کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3219
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإِسناد ضعيف، لضعف ابن لَهيعة، وشيخه حُيَيّ بن عبد الله. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 6601، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7150»