المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ محقرات الأعمال باب: معمولی اور حقیر سمجھے جانے والے گناہوں سے ڈرانے اور ان سے متنبہ کرنے کا بیان۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ ، أَلَا فَإِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَتَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَمَا يَتَهَافَتُ الذُّبَابُ " .
3218 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، بِهِ . إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ " وَزَادَ : " كَمَا يَتَهَافَتُ الْفَرَاشُ وَالذُّبَابُ وَالْحَنْطَبُ " .
3218 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا يَزِيدُ ، بِهِ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی حرمت (نافرمانی) مقرر نہیں فرمائی مگر اسے (ازل سے) یہ علم تھا کہ تم میں سے کوئی نہ کوئی اس کا ارتکاب ضرور کرے گا؛ خبردار! میں تمہارے کمر بندوں سے پکڑ پکڑ کر تمہیں آگ میں گرنے سے بچا رہا ہوں، بالکل اسی طرح جیسے مکھیاں (بے خبری میں) آگ میں گرتی ہیں۔“
ابوبکر نے یزید بن ہارون کے واسطے سے مسعودی سے یہی روایت نقل کی ہے، البتہ انہوں نے «آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ» ”میں تمہارے کمر بندوں کو تھامنے والا ہوں“ کے الفاظ روایت کیے ہیں اور اس میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ: ”جس طرح پروانے، مکھیاں اور بھونرے (تیزی سے) آگ میں گرتے ہیں۔“
اور امام ابو یعلیٰ نے اسے ابونخیثمہ کی سند سے یزید سے روایت کیا ہے۔