المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ محقرات الأعمال باب: معمولی اور حقیر سمجھے جانے والے گناہوں سے ڈرانے اور ان سے متنبہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3217
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ( ح ) .
3217 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثَنَا زَيْدٌ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا آخِرَ الزَّمَانِ ، وَقَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِمُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ ، فَاحْذَرُوهُ عَلَى دِينِكُمْ " ، الْحَدِيثَ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً شیطان اس بات سے ناامید ہو چکا ہے کہ آخری زمانے میں تمہارے اس شہر میں اس کی پوجا کی جائے گی، البتہ وہ تمہارے ان اعمال سے راضی ہو گیا ہے جنہیں تم معمولی اور حقیر خیال کرتے ہو، پس اپنے دین کی حفاظت کی خاطر اس سے ہوشیار اور چوکنا رہو۔“
اس روایت کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی نامی راوی کے باعث ضعف پایا جاتا ہے، تاہم اس مضمون کے شواہد دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہیں جو اس کے مفہوم کی تائید کرتے ہیں۔