المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ الرياء والدعاء بما يذهبه باب: ریا کاری سے ڈرانے اور اس دعا کا بیان جو اسے دور کر دیتی ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُجَاءُ بِابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ بَذَجٌ وَرُبَّمَا قَالَ : كَأَنَّهُ جَمَلٌ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ ، انْظُرْ إِلَى عَمَلِكَ الَّذِي عَمِلْتَهُ لِي فَأَنَا أَجْزِيكَ عَلَيْهِ وَانْظُرْ إِلَى عَمَلِكَ الَّذِي عَمِلْتَهُ لِغَيْرِي فَيُجَازِيكَ عَلَى الَّذِي عَمِلْتَ لَهُ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن ابنِ آدم کو (بارگاہِ الٰہی میں) لایا جائے گا گویا کہ وہ بھیڑ کا ایک چھوٹا بچہ ہے، اور بسا اوقات راوی نے شک کے ساتھ بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا کہ وہ ایک اونٹ ہے“، پھر اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: اے ابنِ آدم! میں تقسیم کرنے والوں میں سب سے بہتر اور (شرک سے) سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، تو اپنے اس عمل کی طرف دیکھ جو تو نے خالص میرے لیے کیا تھا، میں تجھے اس کا اجر و ثواب عطا کروں گا، اور اپنے اس عمل کی طرف دیکھ جو تو نے میرے علاوہ کسی اور کے لیے کیا تھا، پس وہی تجھے اس کا بدلہ دے گا جس کے لیے تو نے وہ عمل کیا تھا۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہے، تاہم اس حدیث کا مفہوم و معنی دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے جن میں اللہ تعالیٰ کے شرک سے بے نیاز ہونے کا ذکر ہے۔