المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ الرياء والدعاء بما يذهبه باب: ریا کاری سے ڈرانے اور اس دعا کا بیان جو اسے دور کر دیتی ہے۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ ، أَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ جَبَلَةَ الْيَحْصَبِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا أَنْ قَالَ : إِنَّ قَائِلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا النَّجَاةُ غَدًا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَادِعِ اللهَ تَعَالَى " . قَالَ : وَكَيْفَ يُخَادَعُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ تَعْمَلَ بِمَا أَمَرَكَ اللهُ بِهِ تُرِيدُ بِهِ غَيْرَهُ ، فَاتَّقُوا الرِّيَاءَ فَإِنَّهُ الشِّرْكُ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنَّ الْمُرَائِيَ يُنَادَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ بِأَرْبَعَةِ أَسْمَاءٍ : يَا فَاجِرُ يَا كَافِرُ ، يَا خَاسِرُ ، يَا غَادِرُ ، ضَلَّ عَمَلُكَ وَبَطَلَ أَجْرُكَ ، فَلَا خَلَاقَ لَكَ الْيَوْمَ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى ، فَالْتَمِسْ أَجْرَكَ مِمَّنْ كُنْتَ تَعْمَلُ لَهُ يَا مُخَادِعُ " . قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : آللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، لَأَنَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْئًا لَمْ أَتَعَمَّدْهُ . قَالَ يَزِيدُ : وَأَظُنُّهُ قَرَأَ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ : فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا الْآيَةَ وَ: إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ الْآيَةَ .جبلہ یحصبی سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی کے ساتھ موجود تھے، انہوں نے ہمیں جو احادیث بیان فرمائیں ان میں یہ بھی تھا کہ ایک مسلمان نے عرض کی: یا رسول اللہ! کل قیامت کے دن نجات کا راستہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ دھوکا دہی نہ کرو۔“ اس شخص نے عرض کی: اللہ عزوجل کے ساتھ دھوکا کیسے کیا جا سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح کہ تم وہ کام تو کرو جس کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، لیکن تمہارا مقصد اس سے اللہ کی رضا کے بجائے کوئی اور ہو؛ پس تم ریاکاری (دکھاوے) سے بچو کیونکہ یہ اللہ عزوجل کے ساتھ شرک ہے، اور یقیناً ریاکار کو قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے چار ناموں سے پکارا جائے گا: اے بدکار! اے کافر! اے خسارہ پانے والے! اے دھوکے باز! تیرے اعمال اکارت گئے اور تیرا اجر ضائع ہو گیا، آج اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے لیے کوئی حصہ نہیں ہے، اے مکار! اب اپنا اجر اسی سے جا کر مانگ جس کی نمائش کے لیے تو عمل کرتا تھا۔“ جبلہ کہتے ہیں کہ میں نے ان صحابی سے دریافت کیا: کیا آپ اس اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں کہ آپ نے خود یہ ارشادِ گرامی رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میں نے یہ براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، سوائے اس کے کہ (بیان میں) کوئی ایسی چیز ہو گئی ہو جو میرے ارادے میں نہ تھی۔ یزید کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ انہوں نے قرآنِ کریم کی یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ [سورة الكهف: 110] اور ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ﴾ [سورة النساء: 142]۔
اس حدیث کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں فرج بن فضالہ ضعیف راوی ہے، تاہم ریاکاری کی ممانعت اور اس کے شرکِ اصغر ہونے پر دیگر مستند احادیث موجود ہیں۔