المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ الرياء والدعاء بما يذهبه باب: ریا کاری سے ڈرانے اور اس دعا کا بیان جو اسے دور کر دیتی ہے۔
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، فَجَاءَهُ الزُّبَيْرُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، وَفِي وَجْهِهِ أَثَرُ السُّجُودِ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ فَقُلْنَا : الزُّبَيْرُ بْنُ سَهْلٍ . فَقَالَ : وَاللهِ ، مَا هَذَا بِسِيمَا الَّتِي سَمَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَقَدْ سَجَدْتُ عَلَى وَجْهِي مُنْذُ ثَمَانِينَ سَنَةً فَمَا أَثَّرَ السُّجُودُ بَيْنَ عَيْنَيَّ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .جُعید بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ہم سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے کہ اتنے میں ان کے پاس زبیر بن سہل بن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم تشریف لائے اور ان کے چہرے پر سجدے کا نشان (محراب) نمایاں تھا، تو سیدنا سائب رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ ہم نے عرض کیا: یہ زبیر بن سہل ہیں۔ انہوں نے (تعجب سے) فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ وہ علامت نہیں ہے جس کا ذکر اللہ عزوجل نے ﴿سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ﴾ [سورة الفتح: 29] میں فرمایا ہے، میں اسّی سال سے اپنے چہرے کے بل سجدہ ریز ہو رہا ہوں لیکن (اس کثرتِ سجود کے باوجود) سجدے نے میری دونوں آنکھوں کے درمیان کوئی نشان نہیں چھوڑا۔“
یہ سند صحیح ہے اور یہ روایت موقوف ہے۔