المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ الرياء والدعاء بما يذهبه باب: ریا کاری سے ڈرانے اور اس دعا کا بیان جو اسے دور کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 3213
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحْسَنَ صَلَاتَهُ حَيْثُ يَرَاهُ النَّاسُ وَأَسَاءَهَا إِذَا خَلَا فَإِنَّمَا ذَلِكَ اسْتِهَانَةٌ يَسْتَهِينُ بِهَا رَبَّهُ " .
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے لوگوں کی موجودگی میں، جہاں اسے لوگ دیکھ رہے ہوں، اپنی نماز کو خوب سنوار کر اور حسن و خوبی کے ساتھ ادا کیا، لیکن جب وہ تنہائی میں ہوا تو اسے بگاڑ کر (نہایت ناقص طریقے سے) ادا کیا، تو بلاشبہ یہ اپنے پروردگار کی وہ توہین اور اسے ہلکا جاننا ہے جو وہ اپنے رب کے ساتھ روا رکھتا ہے۔“
یہ حدیث حسن ہے۔