المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مخالطة النَّاسِ والصبر عَلَى أذاهم باب: لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کی جانب سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3191
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ حَاتِمٍ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : تَعَوَّدُوا الصَّبْرَ فَيُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ بِكُمُ الْبَلَاءُ كَمَا أَنَّهُ لَا يُصِيبُكُمْ مَا أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .ترجمہ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تم اپنے اندر صبر کرنے کی عادت پیدا کر لو، کیونکہ قریب ہے کہ تم پر آزمائشیں نازل ہوں، البتہ تمہیں وہ (شدید) مصائب نہیں پہنچیں گے جو رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میں ہمیں پہنچے تھے۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مجالد بن سعید راوی اپنے حافظے کی بنا پر ضعیف ہے، تاہم فتنوں کے دور میں صبر و استقامت کی تلقین دیگر صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔