المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مخالطة النَّاسِ والصبر عَلَى أذاهم باب: لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کی جانب سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3192
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ لِابْنِ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ صُوحَانَ : " أَنَا كُنْتُ أَحَبَّ إِلَى أَبِيكَ مِنْكَ ، وَأَنْتَ إِلَيَّ مِنَ ابْنِي ، خَصْلَتَانِ أُوصِيكَ بِهِمَا : خَالِصِ الْمُؤْمِنَ ، وَخَالِقِ الْفَاجِرَ ، فَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرْضَى مِنْكَ بِالْخُلُقِ الْحَسَنِ ، وَإِنَّهُ لَحَقٌّ عَلَيْنَا أَنْ نُخَالِصَ الْمُؤْمِنَ " .ترجمہ
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ صعصعہ بن صوحان نے ابنِ زید یعنی ابنِ صوحان سے کہا: ”میں تمہارے والد کو تم سے زیادہ محبوب تھا اور تم مجھے میرے اپنے بیٹے سے بھی زیادہ عزیز ہو، میں تمہیں دو ایسی خصلتوں کی وصیت کرتا ہوں جنہیں تم اپنا لو: مومن کے ساتھ قلبی اخلاص اور سچی دوستی رکھو، اور بدکار و فاجر شخص کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آؤ، کیونکہ بدکار آدمی تمہارے اچھے اخلاق ہی سے تم سے خوش و راضی ہو جاتا ہے، جبکہ اہل ایمان کے ساتھ کامل اخلاص و صفا برتنا ہم پر لازم اور ہمارا فریضہ ہے۔“
یہ اثر امام ابن ابی شیبہ نے اپنی 'المصنف' میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن درجے کی ہے۔