المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي التسهيل فِي أمور الدنيا باب: دنیوی امور و معاملات میں آسانی پیدا کرنے اور سہولت پسندی اختیار کرنے کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3185
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ قَالَ : عَادَ خَبَّابًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : أَبْشِرْ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ ، تَرِدُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَوْضَ ، فَقَالَ : فَكَيْفَ بِهَذَا ؟ وَأَشَارَ إِلَى أَعْلَى الْبَيْتِ وَأَسْفَلِهِ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ " .ترجمہ
یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کی اور ان سے عرض کیا: ”اے ابو عبداللہ! آپ کو بشارت ہو، آپ حوضِ کوثر پر حضرت محمد ﷺ سے جا ملیں گے۔“ انہوں نے اپنے گھر کے بالائی اور زیریں حصے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”پھر اس دنیوی مال و متاع اور وسعت کا کیا بنے گا؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ تم میں سے کسی کے لیے دنیا کا اتنا ہی ساز و سامان کافی ہے جتنا کسی سوار مسافر کا زادِ راہ ہوتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے۔