المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ إظهار عمل العبد وإن أخفاه باب: بندے کے چھپائے ہوئے عمل کے ظاہر ہو جانے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : كَتَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا عَمِلَ بِطَاعَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبَّهُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَإِذَا أَحَبَّهُ حَبَّبَهُ إِلَى خَلْقِهِ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا عَمِلَ بِمَعْصِيَةِ اللهِ تَعَالَى أَبْغَضَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَإِذَا أَبْغَضَهُ اللهُ تَعَالَى بَغَّضَهُ إِلَى الْخَلْقِ .عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کی جانب لکھا: ”حمد و ثنا کے بعد! حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی بندہ اللہ عزوجل کی اطاعت و فرمانبرداری والے کام کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے محبت فرمانے لگتا ہے، اور جب اللہ اس سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنی مخلوق کا بھی محبوب بنا دیتا ہے، اور یقیناً جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور معصیت والے کام کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس سے ناراض ہو کر اس سے بغض رکھتا ہے، اور جب اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھتا ہے تو اسے اپنی مخلوق کی نظروں میں بھی مبغوض اور ناپسندیدہ بنا دیتا ہے۔“
اس حدیث کو امام بخاری نے الادب المفرد (449) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔