المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ إظهار عمل العبد وإن أخفاه باب: بندے کے چھپائے ہوئے عمل کے ظاہر ہو جانے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَوْفٍ ، ثَنَا مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ بَيْتًا فِي جَوْفِ بَيْتٍ فَأَدْمَنَ هُنَاكَ عَمَلًا ، أَوْشَكَ النَّاسُ أَنْ يَتَحَدَّثُوا بِهِ ، وَمَا مِنْ عَامِلٍ عَمِلَ عَمَلًا إِلَّا كَسَاهُ اللهُ تَعَالَى رِدَاءَ عَمَلِهِ ، إِنْ كَانَ خَيْرًا فَخَيْرٌ ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا فَشَرٌّ .سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص کسی مکان کے انتہائی اندرونی حصے میں واقع ایک اور مکان (کمرے) میں داخل ہو کر وہاں تسلسل کے ساتھ کوئی عمل کرے، تو قریب ہے کہ لوگ اس کے متعلق تذکرہ کرنے لگیں، اور کوئی بھی عمل کرنے والا ایسا نہیں ہے جو کوئی عمل کرے مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کے اس عمل کی چادر پہنا دیتا ہے، اگر وہ عمل خیر ہو تو اس کا بدلہ و پہچان بھی خیر ہے اور اگر وہ عمل شر ہو تو اس کا بدلہ و پہچان بھی شر ہی ہے۔“
یہ روایت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے موقوفاً جید سند کے ساتھ ثابت ہے، جس کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ انسان کا کوئی بھی مخفی عمل اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں اور وہ اس کے اثرات کو لوگوں کے سامنے ظاہر فرما دیتا ہے۔