المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ جَوَازِ الاحتراز بتحصيل القوت مَعَ العمل الصالح باب: نیک عمل کے ساتھ ضرورت بھر رزق حاصل کرکے محتاجی سے بچنے کے جواز کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثَنَا أَبُو عُمَرَ الصَّفَّارُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْعَيْزَارِ قَالَ : لَقِيتُ شَيْخًا بِالرَّمْلِ مِنَ الْأَعْرَابِ كَبِيرًا فَقُلْتُ لَهُ : لَقِيتَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقُلْتُ : مَنْ ؟ قَالَ : عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قُلْتُ لَهُ : فَمَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : " أَحْرِزْ لِدُنْيَاكَ كَأَنَّكَ تَعِيشُ أَبَدًا ، وَاعْمَلْ لِآخِرَتِكَ كَأَنَّكَ تَمُوتُ غَدًا " .عبید اللہ بن عیزار سے روایت ہے کہ انہوں نے ریگستانی علاقے میں ایک معمر دیہاتی شخص سے ملاقات کی اور ان سے پوچھا: کیا آپ کی ملاقات رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام میں سے کسی سے ہوئی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے پوچھا: وہ کون بزرگ تھے؟ انہوں نے کہا: وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما تھے۔ میں نے ان سے عرض کیا: آپ نے انہیں کیا ارشاد فرماتے ہوئے سنا؟ انہوں نے بتایا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم اپنی دنیا کی بہتری و درستی کے لیے اس طرح تگ و دو کرو گویا تم نے ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے، اور اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے اس طرح عمل کرو گویا تم کل ہی موت سے ہمکنار ہو جاؤ گے۔“
یہ روایت حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں ذکر کی ہے، اور یہ قول سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی جانب سے زندگی کے دو اہم پہلوؤں، یعنی دنیا کی تعمیر اور آخرت کی تیاری کے درمیان ایک کامل توازن اور بصیرت انگیز نبوی منہج کی ترجمانی کرتا ہے۔