❮
❯
حدیث نمبر: 318
[قَالَ] إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، أَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا وَقَدْ كَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ ، لَا تَكْشِفْ عَنْ فَخِذِكَ فَإِنَّهَا عَوْرَةٌ ، وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ ، فَإِنَّكَ تُغَسِّلُ الْمَوْتَى " .
قُلْتُ : أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ حَبِيبٍ ، بِسَنَدِهِ دُونَ قَوْلِهِ : " فَإِنَّهَا عَوْرَةٌ " وَدُونَ قَوْلِهِ : " فَإِنَّكَ تُغَسِّلُ الْمَوْتَى " .
318 \ 2 - وَرَوَاهُ الْهَيْثَمُ بْنُ كُلَيْبٍ [الشَّاشِيُّ ] ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ [سَعْدٍ] الْعَوْفِيُّ ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا كَاشِفٌ عَنْ فَخِذِي ، فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ ، غَطِّ فَخِذَكَ فَإِنَّهَا مِنَ الْعَوْرَةِ " .
ترجمہ

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا کرتے تھے، ایک روز وہ آپ ﷺ کے پاس اس حال میں آئے کہ انہوں نے اپنی رانوں سے کپڑا ہٹا رکھا تھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوطالب کے بیٹے! اپنی ران مت کھولو کیونکہ یہ ستَر (شرمگاہ) ہے، اور نہ ہی کسی زندہ یا مردہ شخص کی ران کی طرف دیکھو، کیونکہ تم تو مردوں کو غسل دیتے ہو۔“
میں (امام اسحاق بن راہویہ) کہتا ہوں کہ اسے امام احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے ابن جریج کے واسطے سے حبیب کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، مگر ان کے ہاں آپ ﷺ کے ارشادات ”کیونکہ یہ ستَر ہے“ اور ”کیونکہ تم مردوں کو غسل دیتے ہو“ کے الفاظ شامل نہیں ہیں۔
نیز ہیثم بن کلیب الشاشی نے اسے محمد بن سعد العوفی، روح بن عبادہ، ابن جریج، حبیب بن ابی ثابت اور عاصم بن ضمرہ کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں اپنی ران کھولے ہوئے تھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے علی! اپنی ران ڈھانپ لو کیونکہ یہ ستَر (پردے کی جگہ) میں سے ہے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 318
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف
قال ابن حجر: إن حبيبا لم يسمعه من عاصم وإن بينهما رجلا ليس بثقة ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 504) »
«أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 515، 516، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7455، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3140، 4015، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1460، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 3282، 6720، والدارقطني فى «سننه» برقم: 874، 875، 1876، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على "مسند أحمد"، 1265، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 331، والبزار فى «مسنده» برقم: 694، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،318/1،318/2، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 2721، وأخرجه الطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 1697»