المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْقِبْلَةِ باب: قبلہ کی سمت معلوم کرنے کے لیے اجتہاد اور فکری تگ و دو کرنے کا بیان۔
[ قَالَ] الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ - هُوَ ابْنُ سَالِمٍ - عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ - أَوْ سَرِيَّةٍ - فَأَصَابَنَا غَيْمٌ ، فَتَحَرَّيْنَا ، فَاخْتَلَفْنَا فِي الْقِبْلَةِ ، فَصَلَّى كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا يَخُطُّ بَيْنَ يَدَيْهِ لِنَعْلَمَ أَمْكِنَتَنَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا نَظَرْنَا فَإِذَا نَحْنُ قَدْ صَلَّيْنَا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِالْإِعَادَةِ ، وَقَالَ : " قَدْ أَجْزَأَتْ صَلَاتُكُمْ " .
317 \ 2 - تَابَعَهُ : مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْعَرْزَمِيُّ عَنْ عَطَاءٍ .
317 \ 3 - وَرُوِيَ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ .سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر —یا کسی سریہ (جنگی مہم)— میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ ہم پر بادل چھا گئے، تو ہم نے قبلہ کی سمت متعین کرنے کی کوشش کی مگر ہمارا آپس میں قبلہ کے متعلق اختلاف ہو گیا۔ پھر ہم میں سے ہر ایک نے (اپنی تحقیق کے مطابق) نماز پڑھی اور اپنے سامنے ایک لکیر کھینچ دی تاکہ ہمیں اپنے مقامات اور سمت کا علم رہے۔ جب صبح ہوئی اور ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کے علاوہ کسی دوسری سمت رخ کر کے نماز پڑھی تھی۔ ہم نے اس صورتِ حال کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے ہمیں نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا بلکہ ارشاد فرمایا: ”تمہاری وہ نماز کفایت کر گئی ہے“۔
امام حارث فرماتے ہیں کہ ہمیں داؤد بن عمرو نے، انہیں محمد بن یزید الواسطی نے، انہیں محمد (بن سالم) نے، انہیں عطاء نے اور انہیں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ نیز محمد بن عبید اللہ العرزمی نے بھی عطاء سے اس روایت کی متابعت کی ہے، اور یہ روایت عبد الملک بن ابی سلیمان نے بھی عطاء کے واسطے سے نقل کی ہے۔