المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الرِّزْقِ فِي الوطن باب: اپنے وطن میں رزق میسر آنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3178
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَرْبَعٌ مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ : أَنْ تَكُونَ زَوْجَتُهُ مُوَافِقَةً ، وَأَوْلَادُهُ أَبْرَارًا ، وَإِخْوَانُهُ صَالِحِينَ ، وَأَنْ يَكُونَ رِزْقُهُ فِي بَلَدِهِ " .ترجمہ
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”چار چیزیں انسان کی خوش بختی اور سعادت مندی میں شامل ہیں: یہ کہ اس کی شریکِ حیات اس کے مزاج کے موافق اور ہم آہنگ ہو، اس کی اولاد نیک سیرت اور فرماں بردار ہو، اس کے بھائی اور دوست احباب صالح ہوں اور یہ کہ اس کا رزق اور ذریعہِ معاش اس کے اپنے ہی شہر و دیار میں میسر ہو۔“
اس روایت کی سند میں بقیہ بن ولید مدلس ہیں اور یہاں سماع کی تصریح نہیں ہے، نیز اس کے دیگر رواة کے تفرد کی وجہ سے محدثین کے نزدیک اس کی اسناد میں ضعف پایا جاتا ہے، اگرچہ اس کے بعض اجزاء دیگر صحیح شواہد سے ثابت ہیں۔