المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ التقلل مِنْ الدنيا ومدح أهل الزهادة فيهم باب: دنیا سے کم تعلق رکھنے کی فضیلت اور اہلِ زہد کی تعریف کا بیان۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ أَبِي بِشْرٍ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثَنَا حَيَّانُ بْنُ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نُوحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : " يَا أُسَامَةُ ، إِيَّاكَ وَكُلَّ كَبِدٍ جَائِعَةٍ تُخَاصِمُكَ إِلَى اللهِ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِيَّاكَ وَدُعَاءَ عِبَادٍ قَدْ أَذَابُوا اللُّحُومَ ، وَحَرَقُوا الْجُلُودَ بِالرِّيَاحِ وَالسَّمَائِمِ ، وَأَظْمَؤُوا الْأَكْبَادَ حَتَّى غُشِيَتْ أَبْصَارُهُمْ ، فَإِنْ شِئْتَ فَانْظُرْ إِلَيْهِمْ فَتُسَرُّ بِهِمُ الْمَلَائِكَةُ ، بِهِمْ تُصْرَفُ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ " ثُمَّ بَكَى حَتَّى اشْتَدَّ نَحِيبُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " وَيْحٌ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ ، مَا تَلْقَى مِنْهُمْ مَنْ أَطَاعَ رَبَّهُ ، كَيْفَ يَقْتُلُونَهُ وَيُكَذِّبُونَهُ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمْ أَطَاعُوا اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللهِ وَالنَّاسُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْإِسْلَامِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَفِيمَ إِذًا يَقْتَتِلُونَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُمَرُ تَرَكَ الْقَوْمُ الطَّرِيقَ وَرَكِبُوا الدَّوَابَّ ، وَلَبِسُوا أَلْيَنَ الثِّيَابِ ، وَخَدَمَتْهُمْ أَبْنَاءُ فَارِسَ ، تَتَزَيَّنُ لَهُمْ تَزَيُّنَ الْمَرْأَةِ لِزَوْجِهَا ، فَإِذَا تَكَلَّمَ أَوْلِيَاءُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِمُ الْعَبَاءُ مَحْنِيَّةٌ أَصْلَابُهُمْ ، قَدْ ذَبَحُوا أَنْفُسَهُمْ بِالْعَطَشِ ، فَإِذَا تَكَلَّمَ مِنْهُمْ مُتَكَلِّمٌ كُذِّبَ ، وَقِيلَ لَهُ : أَنْتَ قَرِينُ الشَّيْطَانِ وَرَأْسُ الضَّلَالَةِ ، تُحَرِّمُ زِينَةَ اللهِ تَعَالَى ، وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ تَعَالَى عَلَى غَيْرِ دِينٍ ، اسْتَذَلُّوا أَوْلِيَاءَ اللهِ ، وَاعْلَمْ يَا أُسَامَةُ أَنَّ أَقْرَبَ النَّاسِ مِنَ اللهِ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمَنْ طَالَ حُزْنُهُ ، وَعَطَشُهُ ، وَجُوعُهُ فِي الدُّنْيَا ، الْأَصْفِيَاءُ الْأَبْرَارُ الَّذِينَ إِذَا شَهِدُوا لَمْ يُقَرَّبُوا ، وَإِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا ، تَعْرِفُهُمْ بِقَاعُ الْأَرْضِ ، يُعْرَفُونَ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ ، وَيَخْفَوْنَ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ ، وَتَحُفُّ بِهِمُ الْمَلَائِكَةُ ، يَنْعَمُ النَّاسُ ، وَيَنْعَمُوا هُمْ بِالْجُوعِ وَالْعَطَشِ ، لَبِسَ النَّاسُ لَيِّنَ الثِّيَابِ وَلَبِسُوا هُمْ أَخْشَنَ الثِّيَابِ ، افْتَرَشَ النَّاسُ الْفُرُشَ ، وَافْتَرَشُوا هُمُ الْجِبَاهَ وَالرُّكَبَ ، ضَحِكَ النَّاسُ وَبَكَوْا ، يَا أُسَامَةُ لَا يَجْمَعُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ الشِّدَّةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لَهُمُ الْجَنَّةُ ، يَا لَيْتَنِي قَدْ رَأَيْتُهُمْ يَا أُسَامَةُ ؟ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْآخِرَةِ ، وَالْأَرْضُ بِهِمْ رَحِيمَةٌ ، وَالْجَبَّارُ عَنْهُمْ رَاضٍ ، ضَيَّعَ النَّاسُ فِعْلَ النَّبِيِّينَ وَأَخْلَاقَهُمْ وَحَفِظُوا هُمُ ، الرَّاغِبُ مَنْ رَغِبَ إِلَى اللهِ تَعَالَى فِي مِثْلِ رَغْبَتِهِمْ ، وَالْخَاسِرُ مَنْ خَالَفَهُمْ ، تَبْكِي الْأَرْضُ إِذَا فَقَدَتْهُمْ ، وَيَسْخَطُ اللهُ تَعَالَى عَلَى كُلِّ بَلْدَةٍ لَيْسَ فِيهَا مِثْلُهُمْ ، يَا أُسَامَةُ وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ فِي قَرْيَةٍ فَاعْلَمْ أَنَّهُمْ أَمَانٌ لِتِلْكَ الْقَرْيَةِ ، لَا يُعَذِّبُ اللهُ تَعَالَى قَوْمًا هُمْ فِيهِمُ ، اتَّخِذْهُمْ لِنَفْسِكَ عَسَى أَنْ تَنْجُوَ بِهِمْ ، وَإِيَّاكَ أَنْ تَدَعَ مَا هُمْ عَلَيْهِ فَتَزِلَّ قَدَمُكَ ، فَتَهْوِيَ فِي النَّارِ ، حُرِمُوا حَلَالَ مَا أَحَلَّ اللهُ لَهُمْ ، طَلَبُوا الْفَضْلَ مِنَ الْآخِرَةِ ، وَتَرَكُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ عَنْ قُدْرَةٍ ، لَمْ يَتَكَلَّبُوا عَلَى الدُّنْيَا تَكَلُّبَ الْكِلَابِ عَلَى الْجِيَفِ ، شُغِلَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَشَغَلُوا أَنْفُسَهُمْ بِطَاعَةِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، لَبِسُوا الْخِرَقَ وَأَكَلُوا الْفِلَقَ ، تَرَاهُمْ شُعْثًا غُبْرًا ، يَظُنُّ النَّاسُ أَنَّ بِهِمْ دَاءً وَمَا ذَاكَ بِهِمْ ، وَيَظُنُّ النَّاسُ أَنَّ عُقُولَهُمْ ذَهَبَتْ ، وَمَا ذَهَبَتْ ، وَلَكِنْ نَظَرُوا بِقُلُوبِهِمْ إِلَى مَنْ ذَهَبَ بِعُقُولِهِمْ عَنِ الدُّنْيَا فَهُمْ فِي الدُّنْيَا عِنْدَ أَهْلِ الدُّنْيَا يَمْشُونَ بِلَا عُقُولٍ . يَا أُسَامَةُ عَقَلُوا حِينَ ذَهَبَتْ عُقُولُ النَّاسِ ; لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْآخِرَةِ " .سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ ﷺ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسامہ! ہر اس بھوکے جگر (مظلوم و حاجت مند) سے بچو جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور تمہارے خلاف مقدمہ پیش کرے، اور ان بندوں کی بددعا سے بچو جنہوں نے (عبادت و زہد کی کثرت سے) اپنے گوشت پگھلا دیے، گرم ہواؤں اور لو کے تھپیڑوں سے اپنی کھالیں جھلسا دیں اور اپنے جگروں کو (روزوں کے ذریعے) اس قدر پیاسا رکھا کہ ان کی بصارتیں دھندلا گئیں؛ پس اگر تم چاہو تو ان کی طرف دیکھو، فرشتے ان کے عمل سے خوش ہوتے ہیں اور انہی کی بدولت زلزلے اور فتنے ٹال دیے جاتے ہیں۔“ پھر آپ ﷺ اتنا روئے کہ آپ کی ہچکی بندھ گئی، پھر فرمایا: ”افسوس ہے اس امت پر! اسے ان لوگوں سے کیا کچھ دیکھنا پڑے گا جو اپنے رب کے فرمانبردار ہوں گے، وہ انہیں کیسے قتل کریں گے اور انہیں جھٹلائیں گے، صرف اس لیے کہ انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت کی ہوگی۔“ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا اس وقت لوگ اسلام پر ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے عرض کی: تو پھر وہ کس بات پر آپس میں لڑیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! ان لوگوں نے (صحیح) راستہ چھوڑ دیا ہوگا، وہ سواریوں پر سوار ہوں گے، نہایت نرم و ملائم لباس پہنیں گے، اہل فارس کے بیٹے ان کی خدمت گزاری کریں گے، وہ ان کے لیے ایسے بن سنور کر رہیں گے جیسے کوئی عورت اپنے شوہر کے لیے سنگھار کرتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کے دوست (اولیاء اللہ) جب بات کریں گے تو ان پر کمبل ہوں گے، ان کی پیٹھیں (کثرتِ سجود سے) جھکی ہوں گی، انہوں نے پیاس کے ذریعے اپنی جانوں کو (نفسانی خواہشات سے) ذبح کر رکھا ہوگا، جب ان میں سے کوئی حق بات کہنے والا حق کہے گا تو اسے جھٹلایا جائے گا اور اسے کہا جائے گا کہ: ’تو شیطان کا ساتھی اور گمراہی کا سرغنہ ہے، تو اللہ کی عطا کردہ زینت اور پاکیزہ رزق کو حرام قرار دیتا ہے‘، وہ کتاب اللہ کی تلاوت ایسے انداز میں کریں گے جس کا (حقیقی) دین سے کوئی تعلق نہ ہوگا اور اللہ کے دوستوں کو ذلیل و رسوا کریں گے۔ اور اے اسامہ! جان لو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جس کا دنیا میں غم، پیاس اور بھوک طویل ہوگی؛ یہی وہ چنیدہ اور نیک لوگ ہیں کہ جب وہ (کسی محفل میں) حاضر ہوں تو انہیں قریب نہیں بٹھایا جاتا اور جب وہ غائب ہوں تو انہیں ڈھونڈا نہیں جاتا، زمین کے گوشے انہیں پہچانتے ہیں اور وہ آسمان والوں میں معروف ہیں لیکن اہل زمین سے پوشیدہ ہیں، فرشتے انہیں اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں، لوگ عیش و عشرت میں ہوں گے جبکہ وہ بھوک اور پیاس میں لذت پائیں گے، لوگ نرم لباس پہنیں گے اور وہ کھردرا لباس زیب تن کریں گے، لوگ بستر بچھائیں گے اور وہ اپنی پیشانیوں اور گھٹنوں کو (سجدوں کے لیے) فرشِ زمین پر بچھائیں گے، لوگ ہنسیں گے اور وہ روئیں گے۔ اے اسامہ! اللہ عزوجل ان پر دنیا اور آخرت دونوں کی سختی جمع نہیں فرمائے گا، ان کے لیے جنت ہے، اے اسامہ! کاش میں انہیں دیکھ پاتا! ان کے لیے آخرت میں خوشخبری ہے، زمین ان پر مہربان ہے اور جبار (اللہ) ان سے راضی ہے، لوگوں نے انبیاء کے عمل اور ان کے اخلاق کو برباد کر دیا لیکن انہوں نے ان کی حفاظت کی، حقیقی رغبت کرنے والا وہی ہے جو ان کی طرح اللہ کی طرف راغب ہو اور خسارہ پانے والا وہ ہے جو ان کی مخالفت کرے، جب وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو زمین ان پر گریہ کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس بستی پر غضبناک ہوتا ہے جس میں ان جیسا کوئی موجود نہ ہو۔ اے اسامہ! جب تم انہیں کسی بستی میں دیکھو تو جان لو کہ وہ اس بستی کے لیے باعثِ امان ہیں، اللہ تعالیٰ اس قوم پر عذاب نازل نہیں کرتا جن میں وہ موجود ہوں۔ تم انہیں اپنے لیے لازم پکڑ لو شاید کہ ان کی برکت سے تم نجات پا جاؤ، اور خبردار! ان کے طریقے کو ہرگز نہ چھوڑنا ورنہ تمہارے قدم ڈگمگا جائیں گے اور تم آگ کے گڑھے میں جا گرو گے، انہوں نے (زہد کی خاطر) اللہ کی حلال کردہ چیزوں سے بھی خود کو محروم رکھا، انہوں نے آخرت کی فضیلت طلب کی اور قدرت کے باوجود کھانا پینا چھوڑ دیا، وہ دنیا پر اس طرح نہیں جھپٹے جس طرح کتے مردار پر جھپٹتے ہیں، لوگ دنیا میں مگن ہو گئے اور انہوں نے خود کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت میں مصروف کر لیا، انہوں نے چتھڑے پہنے اور روٹی کے ٹکڑے کھائے، تم انہیں پراگندہ حال اور غبار آلود دیکھو گے، لوگ انہیں دیکھ کر سمجھیں گے کہ انہیں کوئی مرض لاحق ہے حالانکہ انہیں کوئی بیماری نہیں ہوگی، لوگ گمان کریں گے کہ ان کی عقلیں چلی گئی ہیں حالانکہ ان کی عقلیں زائل نہیں ہوئیں، بلکہ انہوں نے اپنے دلوں سے اس عظیم ہستی کا مشاہدہ کر لیا ہے جس کی محبت نے ان کی عقلوں کو دنیا سے بے نیاز کر دیا ہے، چنانچہ وہ دنیا داروں کے درمیان ایسے چلتے پھرتے ہیں جیسے ان کی عقلیں غائب ہوں۔ اے اسامہ! انہوں نے اس وقت عقل مندی کا ثبوت دیا جب لوگوں کی عقلیں ماری گئی تھیں، ان کے لیے آخرت میں ابدی خوشخبری ہے۔“
[أبو نعيم في حلیة الأولياء: 3176، وإسناده ضعيف جداً]۔