المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ التقلل مِنْ الدنيا ومدح أهل الزهادة فيهم باب: دنیا سے کم تعلق رکھنے کی فضیلت اور اہلِ زہد کی تعریف کا بیان۔
حدیث نمبر: 3175
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ قَبْلَهُ : " لَيْسَ الْغَنِيُّ عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، إِنَّمَا الْغَنِيُّ غَنِيُّ النَّفْسِ " .ترجمہ
حسن بصری رحمہ اللہ نبی کریم ﷺ سے سابقہ حدیث کے ہم معنی روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حقیقی مالداری دنیاوی مال و متاع اور ظاہری ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں ہے، بلکہ اصل غنا اور حقیقی مالداری تو یہ ہے کہ انسان کا اپنا نفس غنی اور دل ہر قسم کے حرص و طمع سے پاک ہو۔“
یہ روایت مرسل ہے، البتہ اس کا متن صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ روایات میں موجود ہے۔