❮
❯
حدیث نمبر: 3171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ قِصَّةً قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ كُنُوزَ كِسْرَى قَالَ : إِنَّ الَّذِي أَعْطَاكُمُوهُ وَخَوَّلَكُمُوهُ وَفَتَحَهُ لَكُمْ لَمُمْسِكٌ خَزَائِنَهُ ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ ، قَدْ كَانُوا يُصْبِحُونَ وَمَا عِنْدَهُمْ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ، وَلَا مُدٌّ مِنْ طَعَامٍ ، فَفِيمَ ذَاكَ يَا أَخَا بَنِي عَبْسٍ ؟ ثُمَّ مَرَرْنَا بِبَيَادِرَ تَذْرِي فَقَالَ : إِنَّ الَّذِي أَعْطَاكُمُوهُ وَخَوَّلَكُمُوهُ وَفَتَحَهُ لَكُمْ لَمُمْسِكٌ خَزَائِنَهُ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ ، قَدْ كَانُوا يُصْبِحُونَ وَمَا عِنْدَهُمْ مُدٌّ مِنْ طَعَامٍ ، فَفِيمَ ذَاكَ يَا أَخَا بَنِي عَبْسٍ ؟
ترجمہ

بنو عبس کے ایک شخص سے روایت ہے کہ میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے ایک قصہ بیان کیا اور کسریٰ کے خزانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”بے شک جس ذات نے تمہیں یہ مال و دولت عطا فرمائی، تمہیں ان نعمتوں سے نوازا اور تمہارے لیے یہ فتوحات فرمائیں، اسی نے ان خزانوں کو اس وقت روک رکھا تھا جب محمد ﷺ باحیات تھے؛ اس زمانے میں لوگوں کی یہ حالت تھی کہ وہ صبح کرتے تو ان کے پاس نہ کوئی دینار ہوتا، نہ درہم اور نہ ہی ایک مد (پیمانہ) غلہ ہوتا تھا، تو اے بنو عبس کے بھائی! یہ سب کس لیے ہے؟“ پھر ہمارا گزر غلے کے ان کھلیانوں سے ہوا جہاں اناج کو اڑایا جا رہا تھا، تو انہوں نے پھر فرمایا: ”یقیناً جس اللہ نے تمہیں یہ سب عطا کیا، تمہیں ان کا مالک بنایا اور تمہارے لیے فتوحات کیں، اسی نے ان خزانوں کو اس وقت روک رکھا تھا جب محمد ﷺ زندہ تھے، تب صحابہ اس حال میں صبح کرتے تھے کہ ان کے پاس ایک مد غلہ بھی نہیں ہوتا تھا، تو اے بنو عبس کے بھائی! یہ سب کس لیے ہے؟“
سنن ابن ماجہ: 4150، علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3171
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :أتوقف في الحكم على هذا الأثر؛ لإبهام الرجل الذي يروي عنه أبو البَختَري. »
«أخرجه مسند الطيالسي برقم: 692، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3067، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 35818، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6173»