المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الحذر مِنْ فتنة الغنى وكثرة الْمَالِ باب: مال داری اور کثرتِ مال کے فتنے سے بچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3170
حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، أَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَلَّ مَالُهُ ، وَكَثُرَ عِيَالُهُ ، وَحَسُنَتْ صَلَاتُهُ ، وَلَمْ يَغْتَبِ الْمُسْلِمِينَ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ مَعِي كَهَاتَيْنِ " .ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کا مال و متاع کم ہو، اس کے اہل و عیال (زیرِ کفالت افراد) زیادہ ہوں، اس کی نماز نہایت عمدہ (اور خشوع و خضوع والی) ہو، اور وہ مسلمانوں کی غیبت نہ کرتا ہو، تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ وہ میرے ساتھ ان دو (انگلیوں) کی طرح (قریب) ہو گا۔“
اس حدیث کی سند میں مسلمہ بن علی الخشنی نامی راوی سخت ضعیف اور متروک ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت سنداً ضعیف ہے، اسے امام بیہقی نے شعب الایمان (10300) میں روایت کیا ہے۔