المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الحذر مِنْ فتنة الغنى وكثرة الْمَالِ باب: مال داری اور کثرتِ مال کے فتنے سے بچنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ سَيْحَانَ ، ثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ صُبَرًا مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا بِلَالُ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : تَمْرًا ادَّخَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا خِفْتَ أَنْ تَسْمَعَ لَهُ بُخَارًا فِي جَهَنَّمَ ؟ أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخَافَنَّ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی فرمائی تو انہوں نے آپ ﷺ کے سامنے کھجوروں کے کچھ ڈھیر پیش کیے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے بلال! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ وہ کھجوریں ہیں جو میں نے (آیندہ ضرورت کے لیے) ذخیرہ کر رکھی ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ جہنم میں تمہیں اس کا دھواں اور تپش محسوس ہو؟ اے بلال! اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور صاحبِ عرش (اللہ تعالیٰ) کی جانب سے تنگی و محتاجی کا ہرگز خوف نہ رکھو۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کے تمام راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔