المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الحذر مِنْ فتنة الغنى وكثرة الْمَالِ باب: مال داری اور کثرتِ مال کے فتنے سے بچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3168
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ الضَّبِّيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَأَنَا فِي فِتْنَةِ السَّرَّاءِ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنِّي فِي فِتْنَةِ الضَّرَّاءِ ، إِنَّكُمُ ابْتُلِيتُمْ بِفِتْنَةِ الضَّرَّاءِ فَصَبَرْتُمْ ، وَإِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ " .
3168 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا جَرِيرٌ ، بِهِ .ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے بارے میں تنگی و سختی کی آزمائش کے مقابلے میں خوشحالی اور آسائش کے فتنے سے زیادہ ڈرتا ہوں؛ بے شک تمہیں سختی کی آزمائش میں ڈالا گیا تو تم نے اس پر صبر کیا، اور (یاد رکھو کہ) یہ دنیا نہایت تروتازہ اور شیریں ہے۔“
اسے امام اسحاق اور امام ابو یعلیٰ نے اپنی اپنی اسانید کے ساتھ جریر سے روایت کیا ہے۔