❮
❯
حدیث نمبر: 3151
قَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُرَاتِ قَالَ : اخْتَصَمَ إِلَى مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ رَجُلَانِ قَالَ : فَشَهِدَ عَلَى أَحَدِهِمَا رَجُلٌ ، فَقَالَ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ : وَاللهِ ، مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ لَرَجُلُ صِدْقٍ ، وَلَئِنْ سَأَلْتَ عَنْهُ لَيُحْمَدَنَّ أَوْ لَيُزَكَّيَنَّ ، وَلَقَدْ شَهِدَ عَلَيَّ بِبَاطِلٍ ، وَلَا أَدْرِي مَا اجْتَرَأَهُ إِلَى ذَلِكَ ، فَقَالَ مُحَارِبٌ : يَا هَذَا ، اتَّقِ اللهَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَعِظُ رَجُلًا ذَلِكَ الْيَوْمَ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ : " وَإِنَّ الطَّيْرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَتَضْرِبُ بِأَجْنِحَتِهَا وَتَرْمِي بِمَا فِي جَوْفِهَا مَا لَهَا طَلِبَةٌ " .
3151 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُرَاتِ بِهِ مُخْتَصَرًا ، وَفِي آخِرِهِ : " وَلَيْسَ عِنْدَهَا طَلِبَةٌ " .
ترجمہ

محارب بن دثار سے روایت ہے کہ دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر ان کے پاس آئے، ان میں سے ایک کے خلاف ایک شخص نے گواہی دی، تو جس کے خلاف گواہی دی گئی تھی اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! میرے علم میں تو یہ شخص سچا ہی ہے، اور اگر آپ اس کے بارے میں پوچھیں گے تو اس کی تعریف اور ستائش ہی کی جائے گی، لیکن اس نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دی ہے اور میں نہیں جانتا کہ کس بات نے اسے اس پر آمادہ کیا۔“ تب محارب نے کہا: ”اے شخص! اللہ سے ڈر، کیونکہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: ”اور بلاشبہ قیامت کے دن پرندہ (خوف سے) اپنے پروں کو پیٹے گا اور اپنے پیٹ میں جو کچھ ہے اسے اگل دے گا، حالانکہ اس کا کسی سے کوئی مطالبہ یا دشمنی نہ ہو گی۔““
حارث نے عاصم بن علی کے واسطے سے محمد بن فرات سے اسی طرح مختصراً روایت کی ہے جس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: ”اور اس کا کوئی حق یا مطالبہ نہ ہو گا۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3151
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد موضوع، البلاء فيه من محمَّد بن الفرات، وهو كذاب. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7134، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 2373، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 20443، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 5672، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3151 / 2، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 13802، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8367»